Tayyab Mumtaz

انتخابات کا بگل بج گیا!!!

ملک میں نئے انتخابات کا بگل بج گیا ہے اور سیاست دانوں نے لنگر لنگوٹ کس لئے۔ چند دن پہلے ہی ایک اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف اپنے ساتھیوں کو ہدایت کر چکے ہیں کہ انتخابات کی تیاری کر لیں۔ویسے تو موجودہ حکومت اپنی 5 سالہ مدت کے چار سال پورے کرہی چکی ہے اور عام خیال یہ ہے کہ انتخابات اسی سال کسی وقت ہو سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کی طرف سے نئے انتخابات کی تیاری کو پاناما مقدمے کے ممکنہ فیصلے کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے ۔حکمرانوں کا خدشہ ہے کہ فیصلہ ان کے خلاف آسکتا ہے۔ ایسی صورت میں نئے انتخابات کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاناما مقدمے کا فیصلہ اگلے ہفتے آسکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو گمان ہے کہ فیصلہ نواز شریف یا موجودہ حکومت کے خلاف آئے گا۔ اس کا سہرا وہ اپنے سر باندھنا چاہ رہے ہیں اور ہر روز کہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک حکمران کی تلاشی لی جارہی ہے۔ فیصلہ آنے سے پہلے ہی انہوں نے فیصلہ دے دیا ہے ۔ جواب میں ن لیگ کے وزراءکی فوج روزانہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی تلاشی لیتی ہے۔ تحریک انصاف کے نائب کرسی نشین شاہ محمود قریشی کہہ رہے ہیں کہ ن لیگ عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ ممکن ہے ان کی بات صحیح ہو لیکن تحریک انصاف تو اب تک اپنا اعتماد قائم ہی نہیں کر سکی۔ دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک صدر نشین آصف علی زرداری نے بھی نئے سرے سے انتخابی مہم کاآغاز کر دیا ہے اور گزشتہ جمعرات ہی کو انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگلا وزیراعظم ان کا برخوردار بلاول زرداری ہو گا۔ اسی لیے بلاول زرداری کی ولدیت تبدیل کر کے انہیں بلاول بھٹو بنایا گیا ہے تاکہ بھٹو کے چاہنے والوں کو راغب کیا جاسکے۔ لیکن شاید یہ کارڈ کام نہ آسکے۔ اب خود پیپلزپارٹی کے کارکن بھی سمجھ دار ہو گئے ہیں۔ فی الوقت تو آصف زرداری لاہور میں بیٹھ کر پنجاب کو فتح کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ کبھی پنجاب ہی نے ذوالفقار علی بھٹو کو بھٹو بنایا اور سر آنکھوں پر بٹھایا تھا لیکن پھر ہوا بدل گئی۔ جنرل پرویز مشرف کی ہم نوائی کر کے چوہدری برادران نے تخت پنجاب حاصل کیا اور جنرل پرویز کی بنائی ہوئی قائداعظم مسلم لیگ کے نام پر پنجاب پر حکومت کی۔ پرویز مشرف انتخابی جلسوں میں چوہدری برادران کی مہم چلاتے رہے ہیں چنانچہ یہ چوہدری پرویز الٰہی ہیں جنہوں نے احسان کا بدلہ چکانے کیلئے اعلان کیا تھا کہ جنرل پرویزکو وردی سمیت 10 مرتبہ صدر بنائیں گے ۔ کسی سیاست دان کی طرف سے اعلانیہ اس سوچ کااظہار انوکھا واقعہ تھا لیکن جنرل کی وردی اتر کررہی اور وہ خود بھی اقتدار کی کرسی سے اتر کر برسوں سے خود ساختہ جلا وطن ہیں اور واپس آنے کی ہمت نہیں کر پارہے۔ اب چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی کا سہارا آصف علی زرداری نے تلاش کیا ہے۔ کمزور سہاروں کے ذریعے تو بازی نہیں ماری جاسکتی۔ انتخابی مہم کیلئے آصف زرداری نے نواز شریف حکومت کو تختہ مشق بنایا ہے۔ لاہور میں اپنی ساس نصرت بھٹو کی سالگرہ اور یوم پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے حکمران صرف ایسے کام کرتے ہیں جن میں کمیشن ہے۔ خواہ سڑکیں ہوں، پل ہوں یا گلی محلے کے راستے، ان کی نظر صرف کمیشن پر ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ آصف علی زرداری کا یہ الزام درست ہو۔ آخر دونوں ایک عرصے سے مل کر کھیل رہے ہیں اور بقول شیخ رشید، یہ ناراضی محض دکھاوا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ ملی بھگت کی بات غلط ہے لیکن سب سے زیادہ حیرت تو اس پر ہے کہ آصف زرداری نواز شریف پر کمیشن لینے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ آصف زرداری کی عمومی شہرت کچھ اور ہے اسی لیے وہ پہلے مسٹر ٹین پر سنٹ اور بعد میں مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ کہلائے گو کہ انہیں کئی برس تک مقید رکھنے کے باوجود ان پر کوئی الزام ثابت نہیں کیا جاسکا لیکن کہا جاتا ہے کہ تاثر حقائق سے زیادہ قوی ہوتا ہے اور عوام میں آصف زرداری کا تاثر ایسا ہے کہ کسی اور پر کمیشن کا الزام لگانے پر لوگ ہنس پڑیں گے۔ سندھ میں 9 سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور حکمران سنگین الزامات کی زد میں ہیں ابھی تک اس بات کا جواب نہیں ملا کہ لاڑکانہ کو جو 90 ارب روپے دئیے گئے تھے وہ کہاں خرچ ہوئے اس سوال کی زد میں آصف زرداری کی بہن اور بلاول کی پھوپھی فریال تالپور آتی ہیں۔ آصف زرداری نے بہت صحیح کہا ہے کہ سارا مال یہیں رہ جائے گا ۔ کوئی قبر میں لے کر نہیں جائے گا۔ اس حقیقت کا اطلاق خود زرداری صاحب پر ہوتا ہے ۔ ان کا سرے محل، دبئی اور امریکہ میں فلیٹ، بیرون ملک کھاتے اور پیرس کا محل سب یہی رہ جائیں گے۔ زرداری صاحب کی وجہ سے بلاول کو یہ طعنہ سننا پڑا کہ اس کی پرورش حلال آمدنی سے نہیں ہوئی۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی انتخابی تیاریوں کو دیکھ کر دوسرے بھی بیان بازی کرنے لگے ہیں۔ پاکستان سر زمین پارٹی کے نام سے شاخوں سے ٹوٹے پتوں کو سمیٹ کر میدان میں اترنے والے مصطفی کمال تک نے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ سندھ کا آئندہ وزیراعلیٰ ان کا ہو گا اور 2023ءمیں پورے ملک پر پی ایس پی کی حکومت ہو گی۔ خواب دیکھنے پر صرف منظور وسان کی اجارہ داری نہیں ہے اور ہر سیاسی جماعت کو حق ہے کہ وہ اس ملک پر حکمرانی کی خواہش کااظہار کرے۔ بہر حال ایک نئی سیاسی ہلچل کا آغاز ہونےوالا ہے اور پاناما مقدمے کا فیصلہ نئی راہیں متعین کرے گا۔ انتخابی مہم میں حصہ لینے والی تمام جماعتیں اپنے کارکنوں کو تصادم سے باز رہنے کی سختی سے تاکید کریں ورنہ چند لاشیں تو کرتی ہی رہی ہیں۔اس بار کہیں الیکشن کوئی خونی رنگ نہ مل جائے اور تیسری قوت اس کا فائدہ نہ اٹھا جائے پھر نہ تو زرداری صاحب ہوں گے اور نہ ہی نوازشریف برادران،رہی تحریک انصاف تو اس کا مستقبل تو ویسے بھی ابھی کچھ اندرونی اختلافات اور قبضہ مافیہ کی وجہ سے تاریک ہی نظر آرہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button