چلی ہے رسم کہ کوئینہ سر اٹھا کے چلے

آزادی¿ اظہار رائے یا آزادی ¿ صحافت پر پابندی کوئی نئی بات نہیں ، بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان سے لے کر آج تک جس نے حق اور سچ کی آواز بلند کرنے کی کوشش کی ابر حاکم وقت نے اسے دبانے کی کوشش کی ۔
انقلابی شاعر فیض احمد فیض بھی جبر کے خلاف نعرہ حق بلند کرتے ہوئے ہی دنیا فانی سے رخصت ہوئے تھے ۔ حالات بدل گئے ، وقت بدل گیا، طرز حکمرانی بھی بدل چکا مگر اختلاف رائے کے خلاف عدم برداشت کا عنصر اب بھی باقی ہے ۔ عالمی نتظیم ”فریڈم ہاﺅس“ کی جانب سے دنیا کے199ممالک پر مشتمل سروے رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں آزادی صحافت گزشتہ12برس کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ۔ آزادی اظہار رائے کے راستے میں حا ئل رکاوٹیں اپنی جگہ مگر ناکردہ گناہ کی سزا دینا کسی جمہوری حکومت کا نہیں بلکہ دور جحالت کے بدترین جابر حکمرانوں کا طرز عمل ہے ۔ پا کستانیوں اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں ہر دلعزیز ٹی وی چینل نیو نیوز کو یکم دسمبر سے 7روز کے لیے بند کردیاگیا ہے جبکہ دن ٹی وی کو ایک ماہ کے لیے اور سچ ٹی وی کو بھاری جرمانہ کیاگیا ہے ۔(جبکہ چونکہ اس کے پیچھے چھپے حقائق کچھ اور ہیں جن میں عدلیہ اور حکومت کا گٹھ جوڑ سامنے لایا گیا تھااس لیے چیئرمین پیمرا کی جانب سے مسلط کیے جانے والے اس فیصلے کی جہاں صحافتی برادری نے مذمت کی ہے وہیں طلبہ، ڈاکٹرز ، وکلاءتاجر رہنماﺅں سمیت سیاسی وسماجی تنظیموں کی جانب سے بھی اظہار یکجہتی کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا گیا ہے اور احتجاج کا یہ سلسلہ ایک ہفتے تک جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا اور پھر اس پر عمل بھی کیا گیا ۔نیو ٹی وی اور دیگر چینلز پر پابندی کے حوالے سے سابق صحافی وچیئرمین پیمرا ابصار عالم کے سامنے کچھ سوالات رکھنا چاہوں گا ۔ مانا کہ جواب مانگنے کا حق محفوظ نہیں مگر سوال کرنا ہر شہری کا حق ہے ۔ ابصار عالم صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ نیو نیوز کے ایک پروگرام کے57سیکنڈز کے کلپ کی بنیاد پر پورا چینل بند کرنے کی اجازت کونسا قانون دیتا ہے ؟؟کیا آپ جانتے ہیں کہ کشمیر میں بھارتی سفاکیت کو منظر عام پر لانے والا نیو نیوز وہی چینل ہے جس کا نام لے لے کر بھارتی میڈیا کئی روز تک چیختا رہا ؟؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ نیو نیوز کا واحد مقصد پاکستان کی خدمت ہے اور یہ وہ واحد چینل ہے جہاں صحافی کو سچ اور حقائق بیان کرنے کی پوری آزادی دی جاتی ہے ؟ ابصار عالم صاحب کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ نیو نیوز نے ڈیڑھ سال کے مختصر عرصے میں نہ صرف پاکستانیوں کی اصل آواز بلند کی بلکہ کارکنوں کی تنخواہیں روک کر اپنی جیبیں بھرنے والے سیٹھوں کے مقابلے میں بروقت اور معیاری تنخواہوں کی ادائیگی کی روایت بھی قائم کی ہے ؟ میں چوہدری عبدالرحمن صاحب سے بلمشافہ مل چکا ہوں ان کاوژن پیسہ نہیں خدمت کرنا ہے ۔کیا آپ نے مقبوضہ کشمیر میں مظلوم مسلمانوں کی آواز دنیا تک پہنچا کر بھارت کو ناراض کرنانیو ٹی وی کا جرم سمجھا ہے یا نیو نیوز کو کسی ذاتی دشمنی وعناد کا شکار بنایا ہے ۔یا کسی جج کو بچانے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنا آپ کا مقصد ہے۔ ابصار عالم صاحب آپ نے تو صحافت کے مقدس پیشے سے وابستہ ہونے کے باوجود آزادی صحافت پر حملہ آور ہونے کا وہ اقدام اٹھایا ہے جو تاریخ کبھی نہیں بھولے گی ۔
بقول فیض احمد فیض :
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
پاکستان میں آزادی صحافت کی تاریخ بھی کچھ حوصلہ افزا نہیں ۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو صحافیو ںکے لیے تیسرا خطرناک ترین ملک قرا ردیا گیا ہے ۔1990ءسے2016ءتک پاکستان میں 115صحافی ہلاک ہوچکے ہیں ۔سینکڑوں لاپتہ ہیں اور کئی ملک چھوڑ کر بیرون ممالک میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آزادی اظہار رائے پر پابندی اس سے الگ ہے ۔ آئے روز چینلز پر لگائی جانے والی پابندیاں دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ نام نہاد جمہوری دور حکومت میں محض ایک سٹیٹ چینل کی گنجائش موجود ہے ۔ حق اور سچ کی آواز بلند کرنا گناہ کبیرہ قرار دیا جاچکا ہے جس کی سزا ہر صورت بھگتنا ہوگی تاکہ دوسروں کے لیے باعث عبرت بن سکے ۔
پیمرا چیئرمین کے آمرانہ فیصلے کے خلاف جمہوریت کی دعوے دار حکومت پاکستان اور پیمرا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو نوٹس لیتے ہوئے ملک وقوم کے وسیع ترمفاد میں کام کرنے کے لیے چینلز کونئے ایس اوپیز جاری کرنے چاہیے اور خلاف ورزی کی صورت میں ایک شخص یا پروگرام کو نوٹس جاری کرنا چاہیے کیونکہ کوئی بھی چینل کسی ایک شخص یا پروگرام کی رائے سے متفق نہیں ہوسکتا ۔