چوہدری اور جیپ کا نشان

چکری کے چوہدری کو جیپ کا نشان الاٹ ہو چکا۔ ابھی یہ جیپ کون سے ماڈل میک کی ہے۔معلوم نہیں البتہ چند ہی گھنٹوں میں جیپ کا نشان کئی آزاد امیدواروں کا پسندیدہ سمبل بن چکا۔اتنا فیورٹ کہ کئی ایک ٹکٹیں واپس کر کے جیپ سواری پر آمادہ ہو گئے۔
ہفتہ کے روز وفاقی دارالحکومت میں نیم تعطیل کا ماحول ہوتا ہے۔ آدھے دفتر بند نصف کھلے کچھ البتہ نیم کھلے،عملہ موجود لیکن ورکنگ نہ ہونے کے برابر۔لہٰذا کام کا بوجھ نسبتاًکم۔ الیکشن کے پراسس کے لحاظ سے آخری اہم دن تھا۔امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی ایسی خبریت نہیں ہوتی۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو تو پارٹی کا نشان ہی ملتا ہے۔کچھ آزاد امیدوار ایسے ہوتے ہیں جن کے نشان کا انتظار رہتا ہے۔ جیسے خطہ پوٹھوہار کے اپنی ذات میں انجمن چوہدری نثار علی خان۔ 2013 کے الیکشن میں ویسے تو مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈر تھے۔لیکن آزاد بھی تھے۔وہ کیسے؟ چوہدری نثار علی خان کے دل میں عر صہ دراز سے کسی عہدہ بلند مرتبت کی خواہش چھپی ہوئی ہے۔ یہ کوئی ایسی قابل اعتراض خواہش بھی نہیں۔ سیاست ہوتی کس لیے ہے۔ مقام،مرتبہ،منصب عہدہ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کا اظہار وہ کھلے بندوں نہیں کرتے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے۔ایسی خواہشوں کی تکمیل کیلئے پاپو لر سیاست کرنی پڑتی ہے۔ اب جناب چوہدری صاحب ٹھہرے اپنے مزاج کے انسان۔کا روبار سیاست میں ہیں۔لیکن عامیوں کے ساتھ مکس اپ ہونا ان کو گوارا نہیں۔وہ کسی سے ملتے بھی ہیں تو فریق ثانی کا حسب نصب، شجرہ وغیرہ کی مکمل چھان بین کر کے۔گزشتہ الیکشن میں ان کو خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں خواجہ آصف،سعد رفیق،احسن اقبال میں سے کوئی پنجاب کا وزیر اعلیٰ نہ بن جائے۔ لہٰذا چکری کے فرزند نے صوبائی نشست بھی مانگ لی۔ پارٹی نے صوبائی ٹکٹ نہ دی تو آزاد کھڑے ہو گئے۔ نشان ان کا گائے تھا۔ پی ٹی آئی کے ایک نوارد امیدوار کے ہاتھوں بمشکل راجپوتی آن بچا پائے۔ بہر حا ل چیف منسٹری جاتی عمرہ سے باہر نہ نکلی۔2018 کے الیکشن میں تو اب چکری کا چوہدری بالکل ہی آزاد ہو چکا۔اب نہ ان کے کندھوں پر مسلم لیگ (ن) کا بوجھ ہے۔نہ مسلم لیگ کیلئے چوہدری نثار اب جانثار رہے ہیں۔ سو خطہ پوٹھوہارکے مکینوں کو انتظار تھا کہ پہلے سائیکل کی سواری اورپھر شیر کے حوار ی۔چوہدری نثار کو کون سا نشان ملتا ہے۔ چوہدری نثار علی خان اپنی زندگی کا مشکل ترین الیکشن لڑ رہے ہیں۔ این اے 59،این اے 63 دو حلقے ہی نہیں ان کیلئے بقا کی آخری جنگ ہے۔ اس جنگ میں ان کے حریف ایک نہیں کئی ہیں۔ ایک طرف پیپلز پارٹی سے کارکن کی سیاست سیکھ کر پی ٹی آئی میں آئے سرور خان ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کا سحر دو مرتبہ ٹوڑ چکے ہیں۔ ان کے دوسرے حریف راجہ اجمل صابر ہیں۔ پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل نے گزشتہ الیکشن میں 70ہزار کے قریب ووٹ لیے۔ پانچ سال وہ تبدیلی کا نشان کندھوں پر سجائے پوٹھو ہار کے وسعتوں میں سر گرداں رہے۔ معرکہ میں اترنے کا وقت آیا تو سپاہی کو میدان میں اترنے کی اجازت نہ ملی۔ دونوں حلقوں کے ٹکٹ غلام سرور خان کی جھولی میں ڈال دیے گئے۔ پوٹھو ہار کے تھڑوں پر بزم آرا بے فکرے کہتے ہیں کہ چوہدری کو ایک حلقے سے پی ٹی آئی نے قدرے محفوظ راستہ دیا ہے۔ راجہ اجمل بہر حال اب خم ٹھونک کر میدان میں اترآئے۔ ہیں۔ سپاہی کو معرکہ سے کون روکے؟ الیکشن کے میدان میں چوہدری کامران بھی تو ہیں۔ تعلق اسی گاو¿ں چکری سے ہے۔سیاسی رکابت ان کی چوہدری نثار کے خاندان سے ہے۔ماضی کے کسی سیاسی معرکے میں دونوں کے بزرگ ایک دوسرے کے مد مقابل تھے۔پنجاب کے دیہی تمدن میں دوستیاں اور دشمنیاں نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہیں۔موقع ملنے پر سکور برابر کرنے کا چانسکوئی آخری درجے کا وضع دار ہی ضائع کرتا ہو گا۔ چوہدری کامران نثار کو ہرا نہ بھی سکے سیاسی نقصان ضرور پہنچائیں گے۔ ماضی کی مانند۔مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار ممتاز پہلی دفعہ قومی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ نوارد اسی لیے ہیں کہ نثار ایسے برگد کی مانند چھائے لیڈر کے ہوتے اور کوئی متبادل ابھر ہی نہ سکا۔ سردار ممتاز ایسے گمنام بھی نہیں قبیلہ برادری کا تعلق ناطے خوشیاں،غمیاں سب نبھاتے ہیں۔ اس الیکشن میں بہر حال ان کے لئے موقع ہو گا کہ وہ اپنی سیاسی حیثیت منوا سکیں۔ جو بھی نتیجہ آیا وہ خالص مسلم لیگ (ن) کے جماعتی ووٹ بنک کی حقیقی تصویر ہو گا۔ چوہدری نثار علی خان کے اصلی مد مقابل راجہ قمر السلا م ہیں۔ چک بیلی کے نواحی گاو¿ں کے انجینئر بوریا نشین کلاس سے اٹھے اور ہریالی سے اٹے دیہات کے ہیرو بن گئے۔صوبائی اسمبلی کے تین الیکشن جیت چکے۔
2013 کے عام انتخابات میں پنجاب بھر میں سب سے زیادہ لیڈ کے ساتھ اپنے حریف کو شکست دی۔ ان کی اپنے حریف کے مقابلے میں سبقت چالیس ہزار سے زیادہ تھی۔ گزرے پانچ سالوں میں وہ اپنے لگن‘ صلاحیت کی بدولت شہباز شریف کی نظروں میں آگئے۔ جن کی اپنی ورکنگ سپیڈ بین الاقوامی طور پر مسلمہ ہے۔ قمر السلا م صاف پانی پراجیکٹ ہی کے انچارج نہ تھے بلکہ اپوزیشن ریفارمز کمیٹی کے بھی سربرا ہ تھے۔ صاف پانی پراجیکٹ کے حساب کیلئے اب وہ نیب کے قید ی ہیں۔ عدالتوں میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جا ئے گا۔البتہ ایجو کیشن ریفارمز کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ دی اکانومسٹ کی وہ رپورٹ اب یاد آتی ہے۔ ڈھونڈنے سے بھی اس کی کاپی نہ ملی۔ رپورٹ کہتی ہے کہ حالیہ تاریخ میں کسی ترقی پذیر ملک میں اس سے زیادہ اچھی قابل ریفارمز دیکھنے میں نہیں آئیں۔ ابھی شائد ہمیں ایسی ریفارمز درکار بھی نہیں۔قمر السلام کو یقینی طور پر معلوم ہو گا کہ سیاست میں اپنے اقتدار کا حصہ بننے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کی شام تک انجینئر راجہ قمر السلا م پنجاب کے سینکڑوں ممبران صوبائی اسمبلی کی طرح ایک عام رکن تھے۔ لیکن چوہدری نثار علی خان کے خلاف قومی اسمبلی کا ٹکٹ ملتے ہی وہ اہم ترین ہو گئے۔ اتنے اہم کہ اگلے روز ہی نیب نے انکوائری کے بہانے بلایا اور گرفتاری ڈال دی۔ ابھی صرف ایک ہفتہ پہلے ہی تو نیب نے ان کو الیکشن لڑنے کیلئے کلین چٹ دی تھی۔ نیب کے پاس اچانک ایسی کون سی شہادت آگئی۔یہ تو نیب کو معلوم ہو گا۔ اب قومی اسمبلی کا امیدوار ریمانڈ پر ہے۔ یہاں تک سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔ لیکن پھر قمر السلام کے دو کمسن بچے درمیان میں آگئے۔ 14 سالہ سالار 18 سالہ اسوہ صاحبزادی یہ دونوں بچے چکری کے چوہدری کی راہ میں مزاہم ہیں۔ بچوں میں بلا کا اعتماد ہے۔ شائد ابتلا کی گھڑی نے ان کو راتوں رات کندن بنا دیا ہے۔ یا پھر باپ کی سیاسی تربیت ہے۔ جو بھی ہے اب وہ بین الاقوامی سطح پر میڈیا کیلئے ہاٹ کیک ہیں۔ فتح و شکست کے متعلق کوئی پیش گوئی کرنا مناسب نہیں۔چوہدری نثار علی خان اپنے سے کم عمر مریم نواز کے ساتھ کام کرنے کو اپنے لئے تو ہین سمجھے۔اب ان کا مقابلہ دو کمسن بچوں سے ہے۔ معلوم نہیں انتخابی مہم پر نکلتے وقت وہ کیا سوچتے ہونگے؟