Tayyab Mumtaz

خصوصی عدالتوں کے قیام کافیصلہ !!!

ملک میں جاری دہشت گردی کو روکنے کیلئے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے اجلاس کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد کا پاکستان بدل چکا ہے، جس میں دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور عدم برداشت کی کوئی گنجائش نہیں، جانتا ہوں کہ چھوٹے چھوٹے تابوت والدین کے کندھوں پر کتنے بھاری تھے، ہم پہ ایک قرض تھا جو آج بہت عرصے کے بعد چکایا جارہا ہے، ہم نہ صرف دہشت گردی بلکہ دہشت گردانہ سوچ کا بھی خاتمہ بھی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی سیاسی پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے متفقہ ایکشن پلان تیار کیا ہے، فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کیلئے آئین میں ترمیم کی جائے گی۔
متفقہ قومی ایکشن پلان کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس میں 12 کے قریب اہم نکات ہیں اگر ان نکات پر عمل درآمد کو یقینی بنا لیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ وطن عزیز کو دہشت گردی سے پاک دھرتی نہ بنایا جاسکے۔ دوسری کل جماعتی کانفرنس میں ان نکات پر اتفاق رائے اس امر کا مظہر ہے کہ پاکستان کی سیاسی قوتیں وقت آنے پر پیش پا افتادہ مفادات کو بالائے طاق رکھنے میں ایک لحطہ کی تاخیر بھی نہیں رکھتیں۔ 20 نکاتی قومی ایجنڈا ترتیب دیا گیا۔ ان پر کانفرنس کے دوران ہمہ جہتی غورو خوض کیا گیا۔ 20 نکاتی قومی ایجنڈے کی تلخیص12 اہم ترین نکات میں پیش کی جاسکتی ہے۔ یہ تلخیص سیاسی قوتوں اور قیادتوں کی سنجیدگی کی آئینہ دار ہے۔1۔ فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں بنائی جائیں گی جس کیلئے آئین میں ترمیم کی جائے گی2۔ کالعدم تنظیموں کو کسی دوسرےنام سے کام کرنے کی اجازت نہیںہو گی 3۔دینی مدارس کی رجسٹریشن کی جائے گی 4۔ دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے سپیشل انٹی ٹیررازم فورس بنائی جائے گی 5۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہشت گردوں کی خبریں نشر کرنے پر مکمل پابندی ہو گی 6۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ 7۔ وسیع تر سیاسی مفاہمت کیلئے تمام سٹیک ہولڈروں کی جانب سے بلوچستان حکومت کو اختیار دیا جارہا ہے 8۔ دہشت گردوں کے مواصلاتینیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا 9۔ پنجاب سمیت ملک کے ہر حصے میں انتہا پسندی کیلئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی 10۔ کراچی میں جاری آپریشن کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا 11 فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی 12۔ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے ابتدائی مرحلے کے ساتھ ان کے بارے میں ایک جامع پالیسی تشکیل دی جارہی ہے۔
گو کہ شرکائے اجلاس نے فوجی قیادت میں خصوصی عدالتوں کے قیام کے مسئلہ پر طویل بحث و تمیحص کی لیکن ان کے قیام کا تجربہ و تحلیل قانونی ماہرین کی آراءکی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ ان ماہرین کی اکثریت فوجی عدالتوں کے قیام کو قانونی تسلیم نہیں کرتی۔ یہ قانونی ماہرین فوج کے ماتحت عدالتوں کو موجودہ عدالتینظام کے متوازی قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز جمہوری نظام کی نفی ہے۔ وہ اس پرمصر ہیں کہ آئین اور موجودہ نظام میں فوجی عدالتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کی تجویز ہے کہ انسداد دہشتگردی کے موجودہ قانون کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج اپنے انتظامی امور کے علاقوں میں فوجی عدالتیں قائم کر سکتی ہے تاہم پورے ملک یا پھر چند مخصوص علاقں کیلئے ان کا قیام ایک سوالیہ نشان ہ گا اس کے برعکس فوجی عدالتوں کی حمایت کرنے والے ماہرین اور تجزیہ کار دنیا کے دیگر ممالک بین الاقوامی قانونی بھی خصوصی اقدامات کی اجازت دیتا ہے وہ اس بات سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ حالت جنگ میں غیر معمولی اقدامات ناگزیرہے۔
واضح رہے کہ 23 دسمبر کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اس تجویز پر غور کیا گیا تھا کہ دہشت گردوںکو فوری سزائیں دینے کیلئے محدود مدت کیلئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کی غرض سے پارلیمنٹ سے آئین میں ایک ترمیم کرائی جائے تاہم بعض سیاسی جماعتوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کیتجویز پر تحفظات کااظہار کیا اور کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے ملک میں انصاف کا متوازی نظام قائم ہو جائے گا اور یوں اعلیٰ عدلیہ کیلئے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کی اس رائے کو نقدونظر کے ترازو میں تولا جانا چاہیے کہ فوجی عدالتوں کا قیام اور ان میں فوجی افسران کی تعیناتیاں آئین کے آرٹیکل 173 کی خلاف ورزی ہے۔
ایک برطانوی نشریاتی ادارے کے سروے کے مطبق انسداد دہشت گردی کیلئے قومی ایکشن پلان کے جس نکتے کی گونج سب سے زیادہ سنائی دی وہ انسداد دہشت گردی کیلئے فوجی افسران کی نگرانی میںخصوصی عدالتوں کے قیام کی تجویز تھی لیکن پاکستان کے آئین اور قانون میں فوجی عدالتوں کے قیام کی کتنی گنجائش ہے ۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیراعظم کے دوسرے دورمیں حکومت میں بھی فوجی عدالتوں کے قیام کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ آئین کے منافی متوازی نظام عدل قائم نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس سعید الزمان صدیقی نے جو فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ سنانے والے بنچ کا حصہ تھے کہا کہ محرم علی کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ عدالتیں آئین کے مطابق نہیں ،عدالت نے شق واربتایا تھا کہ فلاں فلاں شق آئین کے متصادم ہے حکومت کو چاہیے کہ اس عدالتی فیصلے میں دی گائیڈ لائنز کو ذہن میں رکھے وگرنہ سپریم کورٹ اسے دوبارہ کالعدم قرار دے دے گی۔ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس وجہہہ الدین کے مطابق موجودہ صورت حال میں پورے ملک میںفوجی عدالوں کا قیام ناممکن دکھائی دیتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ عدالتی نظام میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں جس سے فیصلے بھی جلدی ہوں جج صاحبان اور گواہوں کو بھی تحفظ دیا جائے، دہشت گردی کو ہر صورت ختم ہونا چاہیے اس کیلئے جو اقدامات بھی آئین کے دائرہ میں ہیں انہیں بروئے کار لانا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button