انقلاب مارچ دھرنا اور پھر انتخابات
tayyab pic for articalڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے آخر کار دھرنے میں شامل لوگوں کو اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دے دی۔ یہ ایک بہت اچھا قدم ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ ان کے اس حکم سے قبل ہی اپنے گھروں کو روانہ ہو چکے تھے۔ اس کے ساتھ جناب قادری صاحب نے بہت سے اہم اعلانات بھی کیے ہیں۔ پہلا اعلان پاکستان کے مختلف شہروں میں جلسوں کا انعقاد ہے جن میں فیصل آباد اور لاہور کے جلسوں کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔ باقی شہروں اور تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ دوسرا اعلان اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ انہوں نے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپنے انقلابی ایجنڈے کی تکمیل کریں گے۔ اس سے ہماری صحافی برادری نے بہت سے نقطے نکالے ہیں کہ شاید دھرنا ختم ہو رہا ہے اور اب توجہ جلسوں اور انتخابات کی طرف جا رہی ہے۔ خیر اس پر تفصیلی بات بعد میں ہو گی لیکن ایسا لگتا ہے کہ بعض سیاستدان جو اپنی پارٹیوں سے مایوس ہیں یا جنہیں مستقبل میں اپنی پارٹیوں میں مزید کردار ادا کرنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔ وہ قادری صاحب کے ان اعلانات سے خوش نہیں ہیں۔ وہ شاید یہی چاہتے ہیں کہ دھرنا جاری رہے اور قادری صاحب اپنے ہمراہیوں کے ساتھ دھرنے کی زینت بنے رہیں۔ جیسے ہی قادری صاحب نے یہ اعلانات کیے اور دھرنوں کے بارے میں خدشات فضا میں بلند ہوئے۔ جناب بابر اعوان نے قادری صاحب کے دھرنا شریک لوگوں کے لیے ایک عدد اونٹ تحفے کے طور پر بھیجا تا کہ اس کی قربانی کر کے دھرنے والوں کو پیش کیا جائے۔ ہمارے قارئین کو یاد تو ہو گا کہ جناب بابر اعوان کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے تھا۔ ان کی سیاسی قوت سے وہ سینٹر منتخب ہوئے اور آج تک ہیں لیکن بعد میں جناب آصف علی زرداری نے انہیں جناب یوسف رضا گیلانی کے سپریم کورٹ والے کیس میں مدد نہ کرنے کی وجہ سے پارٹی سے لاتعلق کر دیا تھا۔ اب وہ دھرنا سیاست کے آنے کے بعد دوبارہ میڈیا پر آ چکے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے حق میں وقت لگاتے ہیں۔ شاید مستقبل میں ان کی سیاست اب ان دونوں جماعتوں سے وابستہ رہ سکے گی۔ بابر اعوان صاحب کا اونٹ جب سج دھج کر ڈی چوک پہنچا تو اسے باقاعدہ میڈیا کی موجودگی میں حاضرین اور ناظرین کے سامنے پیش کیا گیا اور سڑک پر چلا کر لوگوں کو دکھایا گیا۔ جناب قادری صاحب نے برسر عام جناب بابر اعوان کا اس اونٹ کی پیشکش کے لیے شکریہ ادا کیا۔ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے دی جانے والی قربانی کا بڑا اجر ہوتا ہے۔ جسے اللہ پاک بے حد پسند کرتے ہیں لیکن بابر اعوان صاحب کی اس قربانی جسے عرف عام میں ”سیاسی قربانی“ کہا جائے گا ان کو اس کا کیا اجر ملے گا۔ اس کا تعین وقت ہی کرے گا۔
اس کے بعد دھرنے کی سیاست میں سب سے فعال شخصیت جناب شیخ رشید صاحب ہیں۔ اگرچہ انہیں دھرنوں کے اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہونے کی وجہ سے اور تعداد کی کمی ہونے سے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن انہوں نے اپنے ذاتی طور پر تیار کردہ محاورے ”قربانی سے پہلے قربانی“ کا تذکرہ آج تک جاری رکھا جس قربانی کی جناب شیخ رشید وضاحت کرتے رہے وہ تو عید سے قبل نہ ہو سکی۔ البتہ شیخ صاحب نے تحریک انصاف کے کراچی، لاہور اور پھر میانوالی کے جلسوں کی بھرپور تعداد کے بل بوتے پر اپنی مقبولیت کے خوب گن گائے۔ البتہ ایک بات ضرور ہوئی ہے کہ شیخ صاحب اب اپنا ذاتی محاورہ بولنے سے پہلے تھوڑا شرماتے ہیں، ڈگمگاتے ہیں لیکن پرانے سیاستدان اور انفارمیشن کی وزارت کے تجربے کی بنیاد پر اعتماد طریقے سے اپنا ذاتی محاورہ دہرانے سے بھی رہ نہیں سکتے۔ شیخ صاحب نے بھی عید کا دن لال حویلی میں گزارنے کی بجائے ڈی چوک پر گزارنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ کھانا بھی ڈی چوک پر ہی کھائیں گے ۔کھانا تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سے ہی کھائیں گے۔ بہرحال شیخ صاحب جو کریں اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن اب عید کے ساتھ ساتھ قربانی کے بعد ان سے یہ سوال بار بار کیا جاتا رہے گا کہ ”قربانی سے پہلے قربانی“ والی بات کا کیا ہوا۔ اس وقت تک تو ہماری سمجھ میں جو بات آ رہی ہے وہ یہی ہے کہ شاید شیخ صاحب یہ جواب دے دیں کہ میں نے تو ابھی تک قربانی کی ہی نہیں۔ اس لیے مجھ سے یہ سوال نہیں پوچھا جا سکتا۔ آخر کو شیخ صاحب بڑے اور بہت پرانے سیاستدان ہیں ان کے لیے میڈیا کے سوال اور ان کا جواب بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
جناب طاہر القادری صاحب نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر کے لوگوں کو حیران بلکہ پریشان کر دیا ہے کیونکہ اس سے قبل انہوں نے تخت و تاج کو تاراج کرنے کی جو باتیں کیں، جس شدت سے انہوں نے انقلاب مارچ کا لاہور سے آغاز کیا لوگوں کا خیال تھا کہ اب آئین، پارلیمنٹ، اداروں اور حکومت کی خیر نہیں لیکن قادری صاحب زیرک عالم دین، قانون دان، ایک ترقی یافتہ ملک کے شہری ہیں۔ انہیں علم ہے کہ آئین، قانون، پارلیمنٹ ، ادارے اور حکومت اس ملک کا طرہ امتیاز ہیں۔ ان کے ساتھ ایک حد سے زیادہ چھیڑ چھاڑ خطرناک ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ چھیڑ چھاڑ اس حد سے زیادہ نہیں کی۔ خود بھی آنسو گیس کے شیل فائر ہونے کے فوراً بعد اندر چلے گئے اور پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد پر امن طریقے سے ڈی چوک واپس آ گئے۔ اس چھیڑ چھاڑ میں ان کے ساتھی کام آئے جو کہ افسوسناک بات ہے لیکن طاہر القادری صاحب نے آخر کار اس امر کا فیصلہ کر لیا کہ قوم اور ملک کے مسائل کا حل صرف سیاسی طرز عمل سے ممکن ہے۔ اس کے لیے آئینی جدوجہد ضروری ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے انہیں سب سے پہلے جمہوری طریقے سے قوم کے پاس جانا چاہیے۔ انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔ اگر عوام انہیں منتخب کرتے ہیں تو پھر انہیں حق ہے کہ وہ اپنے انقلابی ایجنڈے پر عمل درآمد کرائیں اور اگر انہوں نے منتخب ہونے کے بعد اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد نہ کرایا تو پھر عوام کو بھی انہیں پوچھنے کا حق ہو گا۔ یہی جمہوریت ہے۔ یہ روایت ہے۔ یہی سول سوسائٹی کا طور طریقہ ہے لیکن اگر سڑکوں پر کھڑے ہو کر یہ کہا جائے کہ اس نظام کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس آئین کو نہیں مانتے۔ اس پارلیمنٹ کو نہیں مانتے۔ انتخابات کو نہیں مانتے۔ الیکشن کمیشن کو نہیں مانتے۔ اس طرح سے جمہوریت آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ ادارے شکست و ریخت کا شکار ہوں گے جس خوبصورت انقلاب کی باتیں ہوتی ہیں اس کے خواب یونہی بکھر جائیں گے۔ اب جبکہ جناب طاہر القادری صاحب نے جمہوریت کے راستے کا تعین کر لیا ہے تو انہیں اس قسم کے دھرنوں کو خیر باد کہہ کر ملکی سیاست کے افق پر آجانا چاہیے۔