سعودی ایران معاملات!!!
مشرق وسطیٰ میں برتری حاصل کرنے کے خواہشمند دو انتہائی شدید مخالفین، سعودی عرب اور ایران اس وقت شام میں ایک د وسرے کے خلاف پراسکی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہوں نے اب تک کسی براہ راست ٹکراﺅ سے گریز ہی کیا ہے لیکن وہ عرصہ دراز ہی سے آگ سے کھیل رہے ہیں ، اس لیے یہ امر قطعاً حیران کن نہیں کہ ان کے درمیان حالیہ جھگڑے نے ان میں سے ایک کے دارالحکومت میں جارحانہ صورتحال پیدا کردی ہے لیکن ابھی تک آثار معلوم نہیں ہوتے کہ دونوں کے درمیان براہ راست جنگ ہوگی ۔
اس ہفتے کو سعودی عرب کی طرف سے ایک شیعہ رہنما ، شیخ نمر النمر کا سر قلم کردینے اور اس کے ردعمل میں تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملہ ہونے کے باعث، پہلے سے باہمی کشیدہ تعلقات سنگین صورت اختیار کر گئے ہیں ۔ اس صورت حال کے باعث دونوں ممالک میں اس وقت داخلی مسائل پیدا ہوں گے ۔ جبکہ شام اور یمن میں ایک پُر امن حل کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔
سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان بہت سی مشابہتیں موجود ہیں ۔ دونوں اسلامی شعار سے متاثر ہیں جو ان کی خواہشات کے عین مطابق ہے ۔ دونوں ممالک داخلی اور بیرون ملک، تشدد کو ہوا دینے میں ماہر ہیں ۔ دونوں ممالک میں بہت سے لوگوں کو موت کی سزائیں دی گئیں ۔ دونوں کی معیشت ایک طویل عرصہ تک تیل پرمنحصر رہی ہے لیکن اس وقت دونوں ممالک تیل کی اس آمدن سے ہاتھ دھونے کے قریب ہیں ۔ تیل کی قیمتیں گرتے ہی دونوں ممالک کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کی خواہشات میںبھی اضافہ ہو گیا اور دونوں ممالک داخلی حالات دباﺅاور تناﺅ کا شکار ہو گئے ۔
سعودی عرب میں بادشاہت اور مذہب کے درمیان وسیع خلیج موجود ہے جو اس سلطنت کے قیام سے ہی موجود تھی ۔ اس ملک میں شیعہ اقلیت بھی موجود ہے جو کل آبادی کا دس سے پندرہ فیصد ہے اور وہ سنی اکثریت کے ہاتھوں تعلیم اور روزگار کے لحاظ سے تعصب کا شکار ہے اور یہ اقلیت کافر اور سعودی عرب کی غدار سمجھی جاتی ہے ۔ جب عرب بہار2011ءمیں سعودی عرب پہنچی، محروم اور ناخوش شیعہ اقلیت بھی بیدار ہو گئی ۔ شیخ نمر النمر جو سعودی عرب میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے متعلق اپنے نظریات کے لیے پہلے ہی سے مشہور تھے ( سعودی عرب میں زیادہ تر تیل ان علاقوں میں پیدا ہوتا ہے جہاں اہل تشیع رہتے ہیں ) مشرقی شیعہ علاقے میں ایک رہنما کی حیثیت سے ابھرے ۔ اس پرسعودی حکومت کی طرف سے شدید رعمل سامنے آیا اور دوسروں کے علاوہ انہیں بھی گرفتار کرلیاگیا اور ان پر دہشت گردی کا الزام عائد کیاگیا حالانکہ انہوں نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی تھی ۔
ایران میں بھی سنی آبادی موجود ہے اور اس نے مشکوک وجوہ کی بنیاد پر ہزاروں سنیوں کو پھانسی دی لیکن اس کے اندرونی اختلافات کے باعث محض اعتدال پسندوں، مثلاً صدر حسن روحانی، قدامت پسندوں اور عقابوں کے درمیان توازن پیدا کرنا مقصود تھا جو ایرانی اداروں میں برتری کی کوشش کرنے کے ذریعے منظر عام پر آیا ۔ یہ دنیا کے مفاد میں اور ایرانی عوام کے مفاد میں بھی ہے کہ اعتدال پسند کم از کم جارحانہ رویہ اختیار کریں لیکن شیخ کی ہلاکت کے باعث یہ توازن متاثر ہوسکتا ہے ۔
ایسا معلوم ہوتاہے کہ سعودی عرب کے سفارتخانے پر حملہ سرکاری ایماءپر نہیں ہوا ۔ بلا شبہ، حسن روحانی جو پہلے بھی سعودی حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں ، نے شیخ کی ہلاکت کی مذمت کرنے کے علاوہ سعودی حکومت پر شدید تنقید بھی کی ۔ اس کا نتیجہ لازمی طورپر ہوگا کہ عقاب، جو اس سے پہلے بھی عالمی برادری کے ساتھ جوہری معاہدے کے مخالف تھے ، چاہیں گے کہ ملک کے اندر روشن خیالی کا بستر گول کردیا جائے اور ملکی قیادت کو مجبور کیا جائے کہ جارحانہ پالیسی اختیار کی جائے ۔
اب صورتحال کا زیادہ ترانحصار ، سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے مزید گرفتاریاں کی جاتی ہیں اور مزید افراد کا سر قلم کیا جاتاہے ، صورت حال مزید سنگین ہوسکتی ہے جو دونوں ، تہران اور ریاض کے قابو سے باہر ہوسکتی ہے ۔
دونوں ، ایران اور سعودی عرب ان جارحانہ پا لیسیوں پر اپنے وسائل ضائع کررہے ہیں جن کے نتیجے میں کسی کو بھی کامیابی کی کم ہی توقع ہے ۔ دونوں ہی وسیع پیمانے پر خطرات مول لے رہے ہیں ۔ اگر یہ دونوں ممالک اس بحران سے ہاتھ پیچھے کرلیں تو امید ہے کہ مستقبل میں بھی دونوں سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے ۔
پورے عالم اسلام میں ان ہی دو ممالک کی جنگ ہے جو کہ اقتدار اور مسلکی بنیاد پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں جو کہ پوری دنیا میں عالم اسلام کا سر نیچا کرنے کے لیے کافی ہے اور مسلمان دن بدن پستی کی طرف جا رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے حکمرانوں کو چاہئے خصوصاً پاکستان کو چاہیئے کہ وہ اس نازک صورتحال میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے اور دونوں برادر ممالک میں صلح کی کوشش کرے جس سے خطے اور عالم اسلام کی بہتری پیدا ہو سکے گی۔